نماز کی اہمیت و طریقہ

 "نماز کی اہمیت و اہم نکات"

اہم نکات

نماز کا مفہوم● 
ارشادات(قرآن و حدیث)●
نماز کا طریقہ●
نماز میں عموماً غلطیاں●
دعا اہم رکن ہے●
سجدہ سہو●



:نماز کا مفہوم

نماز اسلام کا اہم ترین ستون ہے۔اللہ تعالی معراج کے موقع پر آپ(ص)کو نماز بطور تحفہ عطا کی۔اس سے واضح ہے کہ نماز کی اسلام میں بہت فضیلت و اہمیت ہے۔اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں متعد مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

نماز کے متعلق ارشادات

 !ارشاد نبوی ہے

"دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون یعنی عمود نماز ہے"

!ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا

"مومن وہ ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور اس کو قائم رکھتے ہیں"

نماز کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے۔

!ارشاد نبوی ہے 

"نماز مومن کی معراج ہے/قبر میں پہلا سوال نماز کا ہوگا"

!ایک مقام پر آپ(ص) نے ارشاد فرمایا

جو شخص عشاء کی نماز میں سستی کرتا ہے یا ادا نہیں کرتا،اگر مجھے ان کے بیوی بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میرا دل کرتا ہے کہ میں امامت کسی کے ذمے لگا کر مدینہ کے لڑکوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔

اس قدر سخت حکم! اس قدر سخت ناراضگی، اگر شفاعت کرنے والے ہی ناراض ہوگئے تو کیا باقی!؟

غضب سے ان کےخدا بچائے"

"بیٹھا ہے فرش پر مگر عرشِ نشیں ہے

ان احادیث و اقوال سے معلوم ہوا نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے جس پر سستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔




ارکانِ نماز 

نماز ادا کرنے کے رکن درج ذیل ہیں 

نیت●

نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں۔کوئی نماز ادا کرنے سے پہلے اس کی نیت کی جاتی ہے خواہ دل میں ہی کیوں نہ ہو۔مثلاء تین رکعت نماز مغرب، منہ قبلہ شریف،بندگی اللہ تعالی کی پیچھے امام کے اللہ اکبر، یا اگر مختصر بھی کی جائے تو بھی کوئی دکت نہیں ہے۔

ثناء●

ثناء نماز کا ابتدائی حصہ ہے۔

"سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ"

بعد از تعوذ و تسمیه

سورة الفاتحه●

الحمداللہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ملك یوم الدین۔ایاك نعبدو وایاك نستعین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکمل

سورت●

کوئی بھی صورت جوڑ دیں جو آتی ہو۔

رکوع●

بعد از تکبیر 

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ (کم از کم 3 مرتبہ)

قومه

اگر امام کے پیچھے ہوں تو

:امام

سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ۔

:مقتدی

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔

سجدہ●

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی (کم از کم 3 مرتبہ)

:جلسہ

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان درج ذیل دعا

مانگتے۔

اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ۔

تشہد●

التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اﷲِ الصّٰلِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ۔

 درودِ اِبراہیمی●


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ 

:ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے 

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔

دعاے ماثورہ●

درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں 

رب اجعلنی مقیم الصلوة ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفرلی ولولدء وللمومنین یوم یقوم الحساب۔

 سلام●

سلام امام صاحب کے ساتھ دو مرتبہ ایک مرتبہ دائیں طرف اور دوسری مرتبہ بائیں طرف "اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ" کہنا ہے۔



نماز میں عموماً غلطیاں

نماز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ نماز درست انداز میں ادا کی جائے۔

باجماعت نماز ادا کرنے کا طریقہ 

اگر امام کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے تو طریقہ یہ ہے۔

دو رکعت نماز میں شمولیت کا طریقہ

اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو اور ایک رکعت گزر چکی ہو تو جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ یہ ہے۔

پہلی رکعت چُھوٹ گئی تو چاہیے کہ نیت کر کے امام کے پیچھے خاموش کھڑا رہے،جب رکعت ختم ہونے لگے تو اتحیات میں" اشھد انا محمد عبدہ ورسول" تک پڑھ کے خاموش ہوجانا ہے پھر امام کے سلام پھیرنے پر دوبارہ کھڑے ہوجائیں(بعض علماء کا خیال ہے کہ دوسرا سلام پھیرتے وقت کھڑے ہو جائیں،بعض کا خیال ہے کے دونوں سلام کے بعد،اس میں اختلاف ہے)

کھڑے ہونے کے بعد یہ گنتی کے لحاظ سے تو اس کی دوسری رکعت ہوئی ایک امام کے پیپھے اور دوسری یہ،اب چونکہ اس کی پہلی رکعت رہ گئی تھی تو پہلی رکعت کی طرح ثناء پڑھ کے سورة فاتحه اور ساتھ دوسری سورة ملاکر باقی معمول کے مطابق نماز مکمل کریں گے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز تو ثناء سے شروع ہوتی ہے،اس لیے جماعت میں شامل ہوتے ہی ثناء پڑھی جائے وغیرہ،مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھا جائے کہ با جماعت نماز ادا کرتے وقت امام کے ساتھ ادا کرنی پڑتی ہے،گویا پہلی رکعت چھوٹنے پر امام کے ساتھ دوسری تو ادا ہوگئی اب پہلی باقی ہے تو ترتیب سے پڑھنا لازم ہے۔

غلط طریقہ/اختلافی طریقہ

بعض لوگ اس طرح امام کے پیچھے شامل ہوتے ہیں کہ پہلی رکعت اسی وقت ہی مکمل کرلیتے ہیں یہ نہیں غور کرتے کہ اس وقت امام کس رکن میں ہے،یہ طریقہ غلط/اختلاف کا شکار  ہے۔(مگر مزید معلومات کے لیئے اپنے قریبی عالم دین سے مشاورت کریں)

چار رکعت نماز میں شمولیت کا طریقہ

اسی طرح چار رکعت نماز مثلاء نماز ظہر میں اگر تیسری رکعت میں شامل ہوں تو مقتدعی کو چاہیے کہ نیت و تکبیر کے بعد خاموشی سے کھڑا ہوجائے اور معمول کی طرح(ہر رکن یعنی رکوع،سجدہ)امام کے ساتھ آخری دو رکعت مکمل کرے۔ آخری رکعت کی اتحیات میں"اشھدو انا محمداً عبدہ ورسول" تک پڑھ کر خاموش ہو جائے، امام کے سلام پھیرتے ہی معمول کے مطابق اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ اسی طرح وہ رکعت گنتی کے مطابق تو اس کی تیسری ہوئی مگر اس کی دو رکعت پہلی اور دوسری چھوٹی تھی۔ تو وہ جیسے نماز شروع کی جاتی ہے ثناء،سورت فاتحه اور دوسری سورة اور باقی معمول کے مطابق نماز کو پورا کر لے۔




"دعا اہم رکن ہے"

دعا ایک اہم اور ضروری رکن ہے۔نماز ادا کرنے کے بعد دعا پر بعض لوگوں کا اختلاف ہے۔ ان کے مطابق نماز ادا کرنے کے بعد دعا مانگنا درست عمل نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ"نماز ادا کرنے کے بعد ہم دعا کیوں مانگیں یہ تو اس طرح ہوگیا کہ کسی کا کوئی کام کیا ہے اور اس سے مزدوری وصول کی جائے۔

یہ بات قرآنی تعلیمات کے مطابق درست نہیں کیونکہ اللہ نے خود!فرمایا ہے۔

"مومنوں صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو"

اس کا مفہوم یہ ہے" نماز کے ساتھ مدد طلب کیسے کرنی ہے؟ اس کا مطلب ہے جب تم پر کوئی مشکل و پریشانی واقع ہو تو تم اس پر صبر کرو اور نماز کے ساتھ مطلب دعا میں مدد طلب کرو کہ اللہ اس پریشانی کو دور کر دے۔

اس کے ساتھ کئی احادیث و قرآنی احکامات ملتے ہیں۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلْیَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلَا یَقُلْ : اَللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللهَ لَا مُسْتَکْرِهَ لَهُ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ والنَّسَائِيُّ۔

:ترجمہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو دعا میں اصرار کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دیدے، کیونکہ خدا کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رضي الله عنهما قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ یَقُوْلُ : اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، ثُمَّ قَرَأَ : {وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط اِنَّ الَّذِيْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

!ترجمہ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دعا عین عبادت ہے، پھر آپ ﷺ نے (بطور دلیل) یہ آیت تلاوت فرمائی : {اور تمہارے رب نے فرمایا ہے : تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔




سجدہ سہو●

نماز میں کسی قسم کی غلطی ہوجانے کی صورت میں اس کا کفارہ سجدہ سہو ہے۔اگر نماز ادا کرتے وقت کوئی رکن رہ جائے یا پھر رکعت کی تعداد بھول جائے،کسی قسم کی کمی بیشی کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے۔یہ اس غلطی کا کفارہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا

اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم نماص کے دوران رکعت کی تعداد بھول جاؤ تو سجدہ سہو کر لیا کرو کیونکہ یہ(رکعت کا بھولنا) شیطان کی وجہ سے ہوتا ہے۔

سجدہ سہو کا طریقہ

 نماز مکمل کرنے کے بعد اگر کوئی غلطی یا کمی بیشی ہوئی ہو تو  آدھی اتحیات (اشھد انا محمد عبدہ و رسول) تک پڑھ کے پہلا سلام پھیرا جائے اس کے بعد دو سجدے کر لیے جائیں،پھر اتحیات مکمل پڑھ کے سلام پھیرا جائے انشاءاللہ کفاتہ ہوجائے گا۔

مگر بہتر ہے کہ اگر فرض نماز یا وتر میں کوئی بڑی غلطی ہو (رکعت کا بھول جانا) تو دوبارہ ادا کرنا بہتر ہو گا۔

Notice:

اگر کوئی قرآنی آیت و ترجمہ یا احادیث وغیرہ میں کسی قسم کی غلطی ہوئی ہو تو اللہ معاف فرمائے آمین۔

"واللہ اعلم ورسول"

Source:

1-Quran
2-Hadith
3-Hand Written 
4-Islamic Perspective
5-Google websites

《《《《《《《《《《《《《《《■》》》》》》》》》》》》》》》

Published By:

lifeunscripted17.blogspot.com

Publisher:

Life_unscripted💀

Follow for more》》》》》》Thank's♡

Feedback:

Feedback for better content.

♡جزاك اللہ


Comments

Popular posts from this blog

FACTS IMRAN KHAN✍